8 دسمبر 2011 - 20:30

يمن کے انقلابي جوانوں نے اعلان کيا ہے کہ بعض حکومت مخالف سياسي جماعتوں کي طرف سے حکومت کے ساتھ سياسي گٹھ جوڑ اور ڈکٹيٹر عبداللہ صالح کو عدالتي استثنا دئے جانے کو کسي بھي قيمت پر قبول نہيں کريں گے.

ابنا: يمن کے انقلابي جوانوں نے زور دے کرکہا ہے کہ وہ اس سياسي گٹھ جوڑ کے خلاف بھي سڑکوں پرنکليں گے اور اپنے مطالبات پورے ہونے تک چين سے نہيں بيٹھيں گے - صنعا ميں يمني انقلابي جوانوں کي تنظيم التغير کےرہنما حمزہ الکمالي نے کہاکہ جمعہ کو ہونےوالا مظاہرہ اس بات کو ثابت کرديتا ہے کہ يمن کا انقلاب اپنے مقاصد کے حصول تک جاري رہے گا اور جب تک يمني حکومت کا خاتمہ نہيں ہوجاتا اور ڈکٹيٹرسميت تمام بدعنوان حکمرانوں کو عدالت کے کٹہرے ميں کھڑا نہيں کرديا جاتا اس وقت تک يہ تحريک پوري قوت کے ساتھ جاري رہے گي انہوں نے يمن کي حزب اختلاف کي بعض سياسي جماعتوں سے حکمراں جماعت کي اس درخواست کے بارے ميں کہ وہ ملک ميں عوامي مظاہروں پر روک لگائے کہا کہ جس وقت ان مخالف سياسي جماعتوں نے موجودہ حکومت سے ہاتھ ملايا ہے انقلابيوں نے اپنا راستہ ان سے الگ کرليا ہے اور ملک کے انقلابي جوانوں کا ان سے کوئي تعلق نہيں ہے کيونکہ ان سياسي جماعتوں نے يمني عوام سے غداري کي ہے

واضح رہے کہ يمن کي بعض سياسي جماعتوں نے جو حکومت کي مخالف تھيں خليج فارس تعاون کونسل کي طرف سے پيش کئے گئے معاہدے کو تسليم کرتے ہوئے اس پر دستخط کردئے اور اب انہوں نے ملک کے آئندہ وزير اعظم کے طور پر محمد سالم باسندوہ کو نامزد کيا ہے -

اس معاہدے کے مطابق يمني ڈکٹيٹر عبداللہ صالح اور اس کے سيکڑوں ساتھيوں کو عدالتي استثنا دے ديا گيا ہے مگر انقلابيوں کا کہنا ہے کہ وہ مجرم ڈکٹيٹر عبداللہ صالح کو معاف نہيں کريں گے. .......

/169